Friday , 21 September 2018
Home / Pakistan / Mehrabpur Village people made a history to set example of humanity

Mehrabpur Village people made a history to set example of humanity

Advertisement

Its 27th June 2018, Shalimar Express Train on a way to from Karachi to Lahore then its faces mechanical issue in train and its stop from few hours near Sukkur. The train need to recover from its running state need 6 hours. The passengers were hungry and thirsty because the train hang on in non congested area. People need foods and water to survive because children, women, men and old people also in train. Then Mehrabpur village and others village who near by help those with open heart and lot of courage. We share some pictures here from this incident and you come to know how children of village and even old people of village help train passengers. They even arrange a daigh of rice, fruits, ice, cold water and other necessary things for passengers. They didn’t notice who sitting in train. They belongs to Punjab, Sindh, Balouchistan or KPK. They keen to help them. Even they didn’t notice their religion they just saw they are humans. Mehrabpur people make as proud and I must i am Pakistani and Proud to Be Pakistani.

This Is Real Pakistan

About Mehrabpur

Mehrabpur is village in Sindh near Sukkur and Naushahro Firoz district. Its subdivided into 8 Union Council. Area Code is 0242.

We here also copied the story which written by a passenger and a eye witness of a train Prof Muhammad deen.

فیصل آباد کے سابق ان لینڈ روینیو افسر محمد دین شالیمار ایکسپریس میں کراچی سے لاہور جا رہے تھے کہ اندرون سندھ کے علائقے محرابپور کے قریب ٹرین کی ایک بوگی کے پہیئے الگ ہو گئے۔ ٹرین کئی گھنٹوں کے لیئے ایک ویران جگہ پر کھڑی ہوگئی۔ دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ بچے اور عورتیں گرمی، بھوک اور پیاس کے مارے بلک رہے تھے۔ اوپر سے ریلوے اسٹاف نے یہ بتایا کہ امداد آنے میں چھ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ محمد دین صاحب اپنی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ بچوں اور عورتوں کی حالت دیکھ کر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ پھر اچانک میں نے وہ مناظر دیکھے، جنہوں نے مجھے رلا دیا۔ درختوں کے پیچھے کھیتوں سے دیہات کے لوگ قطار در قطر ہماری طرف آ رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں پانی کا کولر تھا تو کسی کے ہاتھ میں گھڑا، ایک رکشے پر پلائو کی دیگ لائی گئی، کوئی روٹیاں لا رہا ہے تو کوئی برف، بچوں کئے لیئے دودھ، چاول کھلانے کے لیئے مٹی کے برتن وغیرہ وغیرہ ۔ یہ نون پوترا اور دیگر دیہات کے لوگ تھے۔ محمد دین کو دیہاتی نوجوانوں نے بہت متاثر کیا، وہ سخت گرمی میں ایک جنون کے چلے۔ امدادی کام کر رہے تھے۔ محمد دین کہتے ہیں کہ نہ مدد کرنے والے جانتے تھے کہ وہ کس صوبے، ذات، برادری یا مذھب کے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ وہ پریشان حال مسافر جانتے تھے کہ ان کے مدد کرنے والے یہ فرشتہ صفت لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ بس ایک ہی رشتہ تھا، انسانیت کا اور احسان کا۔ یہ سادہ دل لوگ اس بات پر بڑے خوش نظر آ رہے تھے کہ انہیں خدمت کا موقعہ ملا۔ جب ٹرین واپس محرابپور چلنے لگی تو دیہات کے یہ لوگ اس طرح ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کر رہے تھے جیسے ہم ان کے قریبی عزیز ہوں۔ ہماری آنکھوں میں بھی تشکر کے آنسو تھے۔ محمد دین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پوسٹ محرابپور اسٹیشن پر بیٹھ کر لکھی اور تصویروں کے ساتھ اپنی وال پر پوسٹ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھی بات کو پھیلانا بھی نیکی ہے اور ان کے اس تجربے کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے تا کہ سب کو ہمارے معاشرے کی اچھی چیزوں اور نیک لوگوں کا بھی پتہ چلے۔

Advertisement

Mehrabpur village

Mehrabpur village

Check Also

General Election 2018: Results and Party Positions

Advertisement 25th July the day of general election 2018. Vote casting time now finish and …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *